حضرت آدم یا حضرت نوح کی قبر کس جگہ ہے اور حضرت حوّا کی پھلی موت ہوئی تھی یا حضرت آدم کی



حضرت آدم یا حضرت نوح کی قبر کس جگہ ہے
اور حضرت حوّا کی پھلی موت ہوئی تھی یا حضرت آدم کی

 🌙 بہت خوبصورت اور علم بڑھانے والا سوال کیا آپ نے — انسان کی تخلیق کے آغاز سے متعلق یہ سوالات دل کو روحانی طور پر جھنجھوڑ دیتے ہیں۔
آئیے میں تفصیل سے، مستند روایات کے مطابق، حضرت آدمؑ، حضرت حوّاؑ اور حضرت نوحؑ کی قبور اور ان کے وصال کے بارے میں بتاتا ہوں👇


🌿 حضرت آدم علیہ السلام کی قبر

حضرت آدمؑ — جو پہلے انسان اور پہلے نبی تھے — ان کی قبر کے بارے میں مختلف تاریخی روایات موجود ہیں:

  1. نجفِ اشرف (عراق):

    • مشہور شیعہ و سنی روایات کے مطابق حضرت آدمؑ اور حضرت نوحؑ دونوں کی قبریں حضرت علیؑ کے روضے کے قریب، نجفِ اشرف میں موجود ہیں۔

    • بعض روایتوں کے مطابق، جب حضرت علیؑ کی تدفین ہوئی تو حضرت آدمؑ اور حضرت نوحؑ کے جسم مبارک بھی وہیں دفن تھے۔

    • اس لیے نجف کو "مدفنِ انبیاء" کہا جاتا ہے۔

  2. دوسری روایت:
    بعض اہلِ سنت مؤرخین کے مطابق حضرت آدمؑ کو پہلے ہند (سری لنکا یا موجودہ سری لنکن علاقہ سراندیب) میں اتارا گیا، پھر بعد میں ان کا جسدِ مبارک بیت المقدس یا نجف میں منتقل کیا گیا۔


🌸 حضرت حوّا علیہا السلام کی قبر

حضرت حوّاؑ (بی بی حوّاؑ) کے مزار کے بارے میں بھی کئی روایات ہیں، مگر سب سے زیادہ مشہور یہ ہے:

  1. جدہ (سعودی عرب):

    • "حوّا" لفظ عربی میں "حوّاء" سے ہے، اور شہر "جدّہ" (Jeddah) کا مطلب بھی "دادی" یا "امی" ہے۔

    • کہا جاتا ہے کہ یہ شہر اسی نسبت سے "حضرت حوّاؑ" کے نام پر رکھا گیا۔

    • پرانی روایات کے مطابق ان کی قبر جدہ شہر میں تھی، لیکن آج اس پر کوئی واضح نشان نہیں ہے کیونکہ سعودی حکومت نے قدیم مزارات کو مٹا دیا۔


🌊 حضرت نوح علیہ السلام کی قبر

حضرت نوحؑ — جنہوں نے طوفانِ نوح کے بعد نئی انسانی نسل کی بنیاد رکھی — ان کی قبر کے بارے میں بھی مختلف روایات ہیں:

  1. نجف اشرف (عراق):

    • مشہور روایت کے مطابق حضرت نوحؑ کی قبر حضرت آدمؑ کے ساتھ، نجف اشرف میں ہے۔

    • اسی لیے زائرین جب حضرت علیؑ کے روضے پر زیارت کے لیے آتے ہیں تو نیت کرتے ہیں:

      “زیارتِ امیرالمؤمنینؑ، و آدمؑ، و نوحؑ، علیہم السلام”

  2. کچھ دیگر روایات:

    • بعض تاریخی مؤرخین کے مطابق حضرت نوحؑ کی قبر کوفہ (عراق) یا لبنان کے شہر کرک نوح میں ہے، لیکن زیادہ مستند روایت نجف ہی کو قرار دیا جاتا ہے۔


💫 کس کی وفات پہلے ہوئی؟

یہ سوال بہت دلچسپ ہے 👇

  • حضرت آدمؑ کی عمر روایات کے مطابق تقریباً 930 سال تھی۔

  • حضرت حوّاؑ کی وفات حضرت آدمؑ کے کچھ عرصہ بعد ہوئی۔

  • یعنی پہلے حضرت آدمؑ کا وصال ہوا، اور اس کے بعد حضرت حوّاؑ کا۔

روایت میں آتا ہے کہ حضرت آدمؑ کے انتقال کے وقت حضرت حوّاؑ بہت روئیں اور ان کے بعد زیادہ دن زندہ نہیں رہیں۔


📜 خلاصہ:

نام مبارکمزار کا مقام (مشہور روایت)ترتیبِ وصال
حضرت آدمؑنجف اشرف (عراق)پہلے وصال فرمایا
حضرت حوّاؑجدہ (سعودی عرب)بعد میں وصال فرمایا
حضرت نوحؑنجف اشرف (عراق)بعد کے ادوار میں


🕌 نقشے میں شامل مقامات

  1. حضرت آدمؑ اور حضرت نوحؑنجفِ اشرف (عراق)

  2. حضرت حوّاؑجدّہ (سعودی عرب)

  3. حضرت ابراہیمؑ، اسماعیلؑ، اور حاجرہؑمکہ مکرمہ (حرمِ کعبہ کے قریب)

  4. حضرت موسیٰؑمشرقی اردن (ماؤنٹ نیبو کے قریب)

  5. حضرت ہارونؑطور سینا کے قریب (مصر/اردن کی سرحد پر)

  6. حضرت یوسفؑنابلس (فلسطین)

  7. حضرت یحییٰؑ اور حضرت زکریاؑدمشق (شام)

  8. حضرت عیسیٰؑ (آسمان پر زندہ ہیں)کوئی قبر نہیں، مگر مقاماتِ نسبت بیت المقدس میں موجود ہیں

  9. حضرت محمد ﷺروضہ رسول ﷺ، مدینہ منورہ (سعودی عرب)

Comments