حضرت فاطمہ الزہرا کا بچپن

 حضرت فاطمہ الزہرا سلامُ اللہ علیہا کا بچپن صبر، استقامت اور اپنے والد (رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم) کی بے پناہ محبت سے بھرپور ہے۔ آپ کی ابتدائی زندگی اور اہم واقعات درج ذیل ہیں

1. پیدائش اور ابتدائی سال

  • وقتِ پیدائش: آپ کی ولادت مکہ مکرمہ میں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کے اعلان سے پانچ سال قبل ہوئی، جب خانہ کعبہ کی از سر نو تعمیر ہو رہی تھی۔

  • خاندان: آپ نے مکہ کے اس دور میں آنکھ کھولی جب اسلام کا آغاز ہوا تھا اور اہل ایمان کو سخت ترین آزمائشوں کا سامنا تھا۔ آپ کی تربیت عظیم والدہ، حضرت خدیجہ کی آغوش میں ہوئی۔

  • نام اور القاب: رسول اللہ ﷺ نے آپ کا نام فاطمہ رکھا اور آپ کا مشہور لقب زہرا (روشن، چمکنے والی) ہے۔    

2. بچپن کے اہم واقعات اور کردار

(الف) باپ کا سہارا (اُمِّ ابیہا)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی والدہ حضرت آمنہ اور والدہ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کی وفات کے بعد حضرت فاطمہ سلامُ اللہ علیہا نے اپنے والد کی دیکھ بھال کی ذمہ داری سنبھالی۔

  • واقعہ: کفار کی طرف سے جب بھی رسول اللہ ﷺ کو کوئی تکلیف پہنچتی، تو آپ فوراً ان کے پاس پہنچ جاتیں، ان کی دلجوئی کرتیں، اور زخموں کی مرہم پٹی کرتیں۔ اسی بے پناہ شفقت اور خدمت کی وجہ سے آپ کا ایک مشہور لقب "اُمِّ ابیہا" ہے، جس کا مطلب ہے "اپنے باپ کی ماں"۔

(ب) غلاظت دور کرنے کا واقعہ

یہ واقعہ آپ کے کمسنی کے زمانے کی بہادری کو ظاہر کرتا ہے۔

  • واقعہ: ایک مرتبہ جب رسول اللہ ﷺ خانہ کعبہ کے قریب سجدے میں تھے، تو قریش کے چند بدبختوں نے ایک ذبح کیے گئے جانور کی غلاظت (اوجھڑی) لا کر آپ کی پیٹھ پر رکھ دی اور ہنسنے لگے۔

  • آپ کا عمل: کم عمر فاطمہ رضی اللہ عنہا کو جب اس بات کا علم ہوا تو آپ دوڑتی ہوئی آئیں، اپنے ننھے ہاتھوں سے وہ گندی چیز رسول اللہ ﷺ کی پیٹھ سے ہٹائی، اور پھر قریش کے سرداروں کو غصے اور جلال سے دیکھا۔ رسول اللہ ﷺ نے آپ کو دلاسہ دیا اور ان پر دعا کی کہ اللہ تعالیٰ کفایت فرمائے۔

(ج) شعبِ ابی طالب کا محاصرہ

آپ کی زندگی کے سخت ترین واقعات میں شامل ہے۔

  • واقعہ: اسلام کے ابتدائی دور میں، قریش نے رسول اللہ ﷺ اور بنو ہاشم کا مکمل سماجی اور معاشی بائیکاٹ کر دیا، جس کی وجہ سے انہیں شعبِ ابی طالب (ایک گھاٹی) میں پناہ لینی پڑی۔

  • بچپن کی آزمائش: حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے اپنے والد اور خاندان کے ساتھ تین سال تک اس محاصرے میں گزارے۔ اس دوران بھوک، پیاس اور دیگر مشکلات کا سامنا کیا، جس نے آپ کے دل کو پختہ اور ثابت قدم بنایا۔

(د) عام الحزن (غم کا سال)

محاصرے سے نکلنے کے تھوڑے ہی عرصے بعد آپ کی والدہ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کا انتقال ہو گیا، اور کچھ عرصے بعد آپ کے شفیق چچا حضرت ابوطالب بھی وفات پا گئے۔

  • غم: یہ سال "عام الحزن" (غم کا سال) کہلایا۔ نو عمر حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے سر سے والدہ کا سایہ اٹھ گیا اور مکہ میں رسول اللہ ﷺ کے بڑے محافظ بھی دنیا سے رخصت ہو گئے۔ اس کے بعد آپ نے رسول اللہ ﷺ کے لیے گھر میں والدہ جیسا کردار ادا کرنا شروع کر دیا۔


  • 📜 شعبِ ابی طالب کا محاصرہ: تاریخ، پس منظر اور استقامت کی داستان

    1. محاصرے کا پس منظر اور سبب

    نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب کھلم کھلا اسلام کی دعوت دینا شروع کی تو قریش مکہ کی مخالفت شدت اختیار کر گئی۔ جب قریش نے دیکھا کہ ان کی دھمکیوں اور ظلم و ستم کے باوجود مسلمان اسلام قبول کرنے سے باز نہیں آتے، اور قریش کے سردار حضرت ابوطالب کی وجہ سے رسول اللہ ﷺ کو مکمل طور پر نقصان نہیں پہنچا سکتے، تو انہوں نے ایک انتہائی سخت قدم اٹھانے کا فیصلہ کیا۔

    • بائیکاٹ کا فیصلہ: قریش کے سرداروں نے ایک دستاویز (صحیفہ) تیار کی اور اسے کعبہ کے اندر لٹکا دیا تاکہ ہر کوئی اس کی پابندی کرے۔

    • معاہدے کی شقیں: اس صحیفے میں درج تھا کہ بنو ہاشم اور بنو عبدالمطلب سے مکمل سماجی اور معاشی بائیکاٹ کیا جائے گا۔ اس کا مطلب تھا:

      • بن ہاشم کے لوگوں سے کوئی شادی بیاہ نہیں کرے گا۔

      • ان کے ساتھ کوئی خرید و فروخت نہیں کی جائے گی۔

      • ان کے ساتھ کسی قسم کا لین دین یا میل جول نہیں رکھا جائے گا۔

    2. محاصرے کا مقام اور دورانیہ

    • مقام: یہ بائیکاٹ شروع ہونے پر رسول اللہ ﷺ، حضرت ابوطالب، حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا اور دیگر اہل ایمان کو مجبوراً مکہ کے قریب ایک گھاٹی میں پناہ لینی پڑی جسے شعبِ ابی طالب کہا جاتا ہے۔ شعب کا معنی گھاٹی یا وادی ہے۔

    • دورانیہ: یہ سخت محاصرہ تقریباً تین سال تک جاری رہا (بعثت کے ساتویں سال سے دسویں سال تک)۔ یہ محاصرہ اسلامی تاریخ میں ایمان کی پختگی کا ایک بہت بڑا امتحان تھا۔


    3. محاصرے کے دوران مشکلات

    یہ تین سال اہل ایمان اور بنو ہاشم کے لیے شدید مصائب کا دور تھا۔

    • فاقہ کشی اور بھوک: قریش نے کھانے پینے کی اشیاء کا مکہ میں داخلہ مکمل طور پر روک دیا تھا۔ قافلوں کو روکا جاتا تھا کہ کہیں وہ ان تک کھانے کی کوئی چیز نہ پہنچا دیں۔ اس شدید بھوک کی وجہ سے کئی بار صحابہ کرامؓ اور خود رسول اللہ ﷺ نے درختوں کے پتے اور سوکھی کھالیں کھا کر گزارا کیا۔

    • بیماری اور کمزوری: مناسب خوراک اور طبی امداد نہ ملنے کی وجہ سے وہاں موجود بچے اور بوڑھے سخت کمزوری اور بیماریوں کا شکار ہو گئے۔ اس دوران بچوں کے رونے اور بلکنے کی آوازیں اکثر مکہ تک پہنچتی تھیں۔

    • حضرت فاطمہؓ کی آزمائش: اس کم عمری میں حضرت فاطمہ الزہرا رضی اللہ عنہا نے بھی یہ سختیاں برداشت کیں۔ انہوں نے قریب سے دیکھا کہ ان کے والد کس طرح اس کڑے وقت میں بھی اللہ کے دین پر ثابت قدم رہے۔


    4. محاصرے کا اختتام اور کامیابی

    • اللہ کا معجزہ: تین سال گزرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے قریش کے معاہدے کے صحیفے کو ختم کرنے کا ارادہ کیا۔ رسول اللہ ﷺ نے حضرت ابوطالب کو بتایا کہ اللہ نے اس صحیفے کو دیمک کے ذریعے ختم کر دیا ہے، اور صرف "اللہ کے نام" کے الفاظ باقی رہ گئے ہیں۔

    • قریش میں اختلاف: کچھ انصاف پسند قریشی سردار، جن میں ہشام بن عمرو اور زہیر بن ابی امیہ شامل تھے، اس غیر انسانی بائیکاٹ پر شرمندہ اور پریشان تھے۔ انہوں نے مل کر فیصلہ کیا کہ اب یہ ظلم ختم ہو جانا چاہیے۔

    • صحیفہ کا پھٹ جانا: جب وہ صحیفہ نکال کر دیکھا گیا تو وہ واقعی دیمک سے ختم ہو چکا تھا، صرف رسول اللہ ﷺ کے بتائے ہوئے الفاظ باقی تھے۔ اس معجزے کے بعد، ظالموں کے علاوہ باقی قریش نے یہ معاہدہ ختم کر دیا اور محصورین کو گھاٹی سے باہر آنے کی اجازت دے دی۔

    5. نتائج اور عبرت

    شعبِ ابی طالب کا محاصرہ صرف ایک تاریخی واقعہ نہیں، بلکہ اہل ایمان کے لیے ایمان پر استقامت، صبر اور توکل علی اللہ کی ایک لازوال مثال ہے۔ اس واقعہ نے مسلمانوں کے جذبہ اور حوصلے کو کم کرنے کے بجائے، انہیں مزید مضبوط کیا۔

  • LIFE OF HAZRAT FATIMA ZAHRA

Comments